یولیسیز
کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں جو ایک ہی وقت میں کلاسک بھی سمجھی جاتی ہیں اور مشکل بھی۔ جیمز جوئس کا ناول یولیسیز ان میں سے ایک ہے۔ اسی نے جدیدیت کے عہد کی بنیاد رکھی اور مابعد جدید کے لکھنے والوں کو متاثر کیا۔
یولیسیز کی کہانی 16 جون 1904 کو ایک ہی دن میں آئرلینڈ کے شہر ڈبلن میں پیش آتی ہے۔ ناول تین مرکزی کرداروں کے گرد گھومتا ہے جن کے نام اسٹیفن ڈیڈالس، لیوپولڈ بلوم، اور مولی بلوم ہیں۔
کہانی کا آغاز صبح کے وقت اسٹیفن ڈیڈالس سے ہوتا ہے، جو ایک نوجوان استاد اور ادیب ہے۔ وہ اپنے دوست بَک ملیگن اور ایک انگریز مہمان کے ساتھ ایک اپارٹمنٹ میں رہ رہا ہے۔ اسٹیفن اپنی ماں کی موت کے بعد شدید ذہنی اضطراب کا شکار ہے کیونکہ اس نے ماں کی آخری خواہش، یعنی اس کے لیے دعا کرنے، کو پورا نہیں کیا تھا۔ وہ اس احساس جرم اور اپنی شناخت کے بحران میں مبتلا ہے۔ صبح کے ناشتے کے بعد وہ گھر سے نکلتا ہے اور شہر کی طرف چلا جاتا ہے۔
اسٹیفن ایک اسکول میں پڑھاتا ہے جہاں وہ طلبہ کو تاریخ کا سبق دیتا ہے۔ اسکول کے بعد وہ تنخواہ وصول کرتا ہے اور شہر میں گھومتا پھرتا رہتا ہے۔ وہ مختلف خیالات میں گم رہتا ہے اور اپنے ماضی، فلسفے، مذہب اور فن کے بارے میں سوچتا ہے۔ اس کی سوچوں میں اس کی ماں، اس کا باپ اور اس کی اپنی زندگی کی ناکامیاں بار بار ابھرتی ہیں۔ وہ سمندر کے کنارے چلتا ہے اور اپنے ذہن میں مسلسل خیالات کے بہاو میں ڈوبا رہتا ہے۔
دوسری طرف لیوپولڈ بلوم کی صبح کا آغاز اپنے گھر سے ہوتا ہے۔ وہ ایک اشتہاری ایجنٹ ہے اور اپنی بیوی مولی کے ساتھ رہتا ہے۔ بلوم اپنی بیوی کے لیے ناشتہ تیار کرتا ہے۔ وہ اخبار پڑھتا ہے اور روزمرہ کے کاموں کے لیے گھر سے نکلتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ اس کی بیوی مولی آج دوپہر کو ایک گلوکار بلی بوائلن سے ملنے والی ہے اور یہ ملاقات ایک خفیہ تعلق کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ بلوم اس بات سے باخبر ہے لیکن اس کے باوجود وہ خاموشی اختیار کرتا ہے۔
بلوم شہر میں مختلف مقامات پر جاتا ہے۔ وہ ایک جنازے میں شرکت کرتا ہے جہاں ایک شخص، پیڈی ڈیگنم، کو دفنایا جارہا ہے۔ جنازے کے دوران بلوم زندگی اور موت کے بارے میں سوچتا ہے۔ وہ اپنے بیٹے روڈی کی موت کو یاد کرتا ہے، جو بچپن میں مر گیا تھا۔ اس نے اس کی زندگی میں مستقل خلا پیدا کردیا ہے۔
دن کے مختلف حصوں میں بلوم اپنے کام کے سلسلے میں لوگوں سے ملتا ہے، اشتہارات کے بارے میں بات کرتا ہے اور شہر کے مختلف علاقوں میں گھومتا ہے۔ وہ ایک لائبریری جاتا ہے جہاں اسٹیفن بھی موجود ہوتا ہے لیکن دونوں کی باقاعدہ ملاقات نہیں ہوتی۔ اسٹیفن وہاں ادبی اور فلسفیانہ گفتگو میں مصروف ہے جبکہ بلوم اپنی دنیا میں مگن ہے۔
بلوم ایک اخبار کے دفتر جاتا ہے جہاں مختلف صحافی اور ادیب موجود ہیں۔ وہاں گفتگو، بحث اور ہلچل کا ماحول ہے۔ بلوم کچھ دیر وہاں رہتا ہے اور پھر نکل جاتا ہے۔ اس دوران وہ مختلف لوگوں کے ساتھ مختصر بات چیت کرتا ہے اور اس کے ذہن میں مسلسل خیالات کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔
دوپہر کے وقت بلوم ایک ریستوران میں کھانا کھاتا ہے۔ وہاں وہ لوگوں کو دیکھتا ہے، ان کے رویے کا مشاہدہ کرتا ہے اور اپنی تنہائی کو محسوس کرتا ہے۔ وہ خود کو دوسروں سے الگ تھلگ محسوس کرتا ہے جیسے وہ اس شہر کا حصہ ہو کر بھی اس سے الگ ہو۔
اسی دوران اسٹیفن بھی شہر میں گھوم رہا ہے اور مختلف لوگوں سے مل رہا ہے۔ وہ ایک شراب خانے جاتا ہے اور اپنے دوستوں کے ساتھ وقت گزارتا ہے۔ وہ شراب پیتا ہے اور اپنی ذہنی الجھنوں میں گرفتار ہوجاتا ہے۔ اس کے خیالات مزید پیچیدہ اور بے ترتیب ہوتے جاتے ہیں۔
شام کے وقت بلوم ایک موسیقی کے پروگرام میں جاتا ہے جہاں مختلف گلوکار پرفارم کررہے ہیں۔ وہ موسیقی سنتا ہے اور اپنے ماضی کے بارے میں سوچتا ہے، خاص طور پر اپنی بیوی کے ساتھ تعلق کے بارے میں۔ وہ مولی کی بے وفائی کے بارے میں جانتا ہے لیکن اس کے باوجود اس کے دل میں اس کے لیے نرم گوشہ موجود ہے۔
رات کے وقت کہانی ایک ریڈ لائٹ ایریا کی طرف بڑھتی ہے جہاں اسٹیفن اور اس کے دوست پہنچتے ہیں۔ وہاں اسٹیفن نشے کی حالت میں مختلف وہموں اور خوابوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اس کے خیالات حقیقت اور تخیل کے درمیان جھولتے رہتے ہیں۔ اس دوران بلوم بھی وہاں پہنچتا ہے اور اسٹیفن کو مشکل میں دیکھتا ہے۔
ایک جھگڑے کے بعد اسٹیفن مشکل میں پڑجاتا ہے اور بلوم اس کی مدد کرتا ہے۔ وہ اسے وہاں سے نکالتا ہے اور اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ اس لمحے میں بلوم ایک طرح سے اسٹیفن کے لیے باپ جیسا کردار ادا کرتا ہے جبکہ اسٹیفن ایک گمشدہ بیٹے کی مانند ہے۔
بلوم اسٹیفن کو اپنے گھر لے جاتا ہے۔ وہ اسے کھانا دیتا ہے۔ دونوں کے درمیان کچھ گفتگو ہوتی ہے لیکن وہ مکمل طور پر ایک دوسرے کو سمجھ نہیں پاتے۔ کچھ دیر بعد اسٹیفن چلا جاتا ہے اور بلوم گھر میں اکیلا رہ جاتا ہے۔
آخر میں کہانی مولی بلوم کے خیالات پر ختم ہوتی ہے۔ وہ بستر پر لیٹی ہوئی ہے اور اپنے ذہن میں مختلف یادوں، خواہشات اور تجربات کو دوہراتی ہے۔ اس کے خیالات بغیر کسی رکاوٹ کے بہتے ہیں اور ماضی اور حال آپس میں مل جاتے ہیں۔ وہ اپنی زندگی، اپنے شوہر اور اپنے تعلقات کے بارے میں سوچتی ہے۔ اس کے ذہن میں محبت، خواہش اور یادوں کا طویل سلسلہ جاری رہتا ہے جو آخر میں ایک خوشگوار احساس پر ختم ہوتا ہے۔