میں کیا ہوں، ایک ہرن؟
پولی بارٹن کا یہ ناول ایک نوجوان عورت کی اندرونی دنیا، اس کی شناخت، محبت، زبان اور خود کو سمجھنے کی کوشش کی کہانی ہے۔ کہانی کی مرکزی کردار ایک نامعلوم عورت ہے، جسے ہم اس کے خیالات، یادوں اور تجربات کے ذریعے جانتے ہیں۔ ناول روایتی پلاٹ کے بجائے ایک ذہنی اور جذباتی سفر پیش کرتا ہے۔
کہانی کا آغاز اس کے بچپن کی ایک یاد سے ہوتا ہے۔ وہ بارہ سال کی عمر میں ایک اسکول تقریب میں فرانسیسی گلوکارہ سیلین ڈیون بن کر اسٹیج پر گاتی ہے۔ یہ لمحہ اس کی زندگی میں ایک اہم تجربہ بن جاتا ہے کیونکہ وہ پہلی بار اپنی شرمندگی، خوف اور خواہشات کو کھل کر ظاہر کرتی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ لوگ اسے رد نہیں کرتے بلکہ سراہتے ہیں۔ اس لمحے میں وہ خود کو مکمل طور پر آزاد اور قبول شدہ محسوس کرتی ہے۔ لیکن یہ احساس دیرپا نہیں ہوتا۔ وقت کے ساتھ وہ دوبارہ خود سے شرمانے لگتی ہے اور سماجی دباؤ اس پر حاوی ہو جاتا ہے۔
یہی تجربہ ناول کے مرکزی موضوع کی بنیاد رکھتا ہے کہ ہم اپنی اصل شناخت کیوں چھپاتے ہیں؟ اور دوسروں کی نظر میں خود کو کیسے دیکھتے ہیں؟
بڑی ہو کر وہ ایک مترجم بنتی ہے اور جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں ایک ویڈیو گیم کمپنی میں کام کرنے لگتی ہے۔ اس کا کام لوکلائزیشن ہے۔ یعنی ایک زبان اور ثقافت کے مواد کو دوسری زبان اور ثقافت کے مطابق ڈھالنا۔ یہی کام اس کے اندرونی بحران کی علامت بن جاتا ہے۔ جیسے وہ زبان کو بدلتی ہے، ویسے ہی وہ خود کو بھی بدلنے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ اپنی شناخت کو ایک نئی جگہ پر لوکلائز کرنا چاہتی ہے۔
فرینکفرٹ میں اس کی زندگی بظاہر عام ہے۔ دفتر، ٹرام کا سفر، اور تنہائی۔ لیکن ایک دن اس کی زندگی بدل جاتی ہے جب وہ ٹرام میں ایک اجنبی مرد سے ملتی ہے۔ اسے وہ بعد میں چھتری والا آدمی کہتی ہے۔ یہ ملاقات بہت مختصر ہوتی ہے۔ وہ اس کی چھتری واپس کرتا ہے۔ لیکن اس لمحے میں ایک عجیب شدت اور کشش پیدا ہوتی ہے۔
اس کے بعد وہ اس شخص سے شدید جذباتی وابستگی محسوس کرنے لگتی ہے حالانکہ وہ اسے جانتی بھی نہیں۔ وہ اسے دیکھتی ہے، اس کے پیچھے چلتی ہے، اس کے بارے میں سوچتی رہتی ہے اور آہستہ آہستہ اس کی زندگی کا مرکز بن جاتا ہے۔ یہ محبت نہیں بلکہ ایسا جذبہ بن جاتا ہے جو حقیقت سے زیادہ اس کے ذہن میں زندہ ہے۔
ناول میں اس کی تنہائی اور خود سے بیگانگی بھی نمایاں ہے۔ وہ دفتر میں خود کو اجنبی محسوس کرتی ہے، زبان کے حوالے سے حساس ہے اور دوسروں کے رویے کو ذاتی طور پر لے لیتی ہے۔ اسے لگتا ہے کہ لوگ اسے پوری طرح نہیں سمجھتے اور وہ بھی خود کو واضح طور پر نہیں سمجھ پاتی۔
اس کی زندگی میں کراوکے ایک اہم علامت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ جاپان میں گزارے گئے وقت کے دوران کراوکے اس کے لیے ایسا تجربہ بن جاتا ہے جہاں وہ خود کو مکمل طور پر آزاد محسوس کرتی ہے۔ جب وہ گاتی ہے تو وہ اپنی اصل شناخت کے قریب پہنچتی ہے۔ وہی کیفیت جو بچپن میں سیلین ڈیون بن کر گاتے وقت محسوس کی تھی۔
کراوکے اس کے لیے صرف تفریح نہیں بلکہ ایک روحانی تجربہ بن جاتا ہے جہاں وہ دوسروں کے ساتھ ایک گہرا تعلق محسوس کرتی ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ موسیقی اور مشترکہ جذبات انسانوں کو جوڑتے ہیں، چاہے وہ زبان یا ثقافت کچھ بھی ہو۔
چھتری والے آدمی کے ساتھ اس کا تعلق حقیقت میں کبھی مکمل نہیں ہوتا بلکہ زیادہ تر اس کے ذہن میں ہی رہتا ہے۔ وہ اس کے بارے میں ایک کہانی بنانے لگتی ہے۔ اس کی تصویر اپنے کمپیوٹر پر رکھتی ہے اور یہاں تک کہ اس پر ایک ناول لکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس طرح وہ حقیقت اور تخیل کے درمیان کی حد کو دھندلا دیتی ہے۔ یہ ناول سوال اٹھاتا ہے کہ کیا ہم واقعی دوسروں سے محبت کرتے ہیں، یا اپنے ذہن میں بنائی گئی ان کی تصویر سے؟
یہ کہانی کسی روایتی انجام تک نہیں پہنچتی بلکہ ایک مسلسل تلاش کی صورت میں رہتی ہے۔ مرکزی کردار اپنے جذبات، اپنی شناخت اور اپنے تعلقات کو سمجھنے کی کوشش کرتی رہتی ہے۔ وہ یہ جاننے کی کوشش کرتی ہے کہ وہ اصل میں کون ہے—اور یہی سوال ناول کے عنوان میں بھی جھلکتا ہے۔ وٹ ایم آئی، اے ڈئیر؟ یعنی میں کیا ہوں؟ ایک ہرن؟ یہ سوال اس کی الجھن کی علامت ہے۔ ایک ایسی مخلوق جو حساس اور خوفزدہ ہے اور دنیا میں اپنا مقام تلاش کررہی ہے۔