موساد کی قتل پالیسی
ویلز کی ایبرسٹ ود یونیورسٹی پروفیسر اویوا گٹمین کی کتاب آپریشن ریتھ آف گاڈ گزشتہ سال شائع ہوئی۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی موساد اپنے دشمنوں کو کیسے نشانہ بناکر قتل کرتی ہے۔
اینڈریو کاک برن [لندن ریویو آف بکس]
اسرائیل کی اسیسی نیشن پالیسی حالیہ برسوں میں معمول کا ہتھیار بن چکی ہے۔ ایران کی جنگ کے ابتدائی گھنٹوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت کئی اعلیٰ عہدیداروں کے قتل نے اس رجحان کو مزید واضح کیا۔ گزشتہ دو برسوں میں اسرائیل نے حزب اللہ، حماس اور حوثیوں کی قیادت کو مسلسل نشانہ بنایا ہے۔ یہاں تک کہ جیسے ہی کوئی نیا عہدیدار اپنے پیشرو کی جگہ لیتا ہے، اسے بھی ختم کردیا جاتا ہے۔ صرف بڑے رہنما ہدف نہیں بنتے بلکہ عام کارکن اور انجینئرز بھی نشانہ بنتے ہیں، جیسا کہ لبنان میں دو انجینئرز کی ہلاکت سے ظاہر ہے۔ یہ حکمت عملی صرف عسکری ڈھانچے تک محدود نہیں بلکہ شہری ڈھانچے اور خدمات تک پھیل چکی ہے۔
سیاسی قتل کی روایت نئی نہیں۔ قرون وسطی میں اسماعیلی فرقہ، حشاشین اس حکمت عملی کے لیے مشہور تھا۔ بعد میں روس کے انقلابی گروہوں اور فلسطین میں صہیونی تنظیموں نے اسے اپنایا۔ 1948 میں اقوام متحدہ کے ثالث کاؤنٹ برناڈوٹ کا قتل اسی سلسلے کی ایک مثال ہے۔
وقت کے ساتھ اسرائیل کا سیاسی قتل کا پروگرام زیادہ پیچیدہ اور وسیع ہوتا گیا۔ 2000 تک تقریباً پانچ سو اور 2018 تک مزید آٹھ سو ٹارگٹڈ آپریشن کیے جاچکے تھے۔ 1972 کے میونخ اولمپکس حملے کے بعد شروع ہونے والا آپریشن ریتھ آف گاڈ اس پالیسی کی نمایاں مثال ہے، جس میں جنگجو فلسطینیوں کو دنیا بھر میں نشانہ بنایا گیا۔ ان میں سے کچھ کو گولی مار کر اور کچھ کو بم دھماکوں کے ذریعے قتل کیا گیا۔
اس مہم میں غلطیاں بھی ہوئیں۔ 1973 میں ناروے کے شہر للی ہیمر میں موساد نے ایک بے گناہ مراکشی ویٹر کو قتل کردیا، جسے غلطی سے ایک مطلوب شخص سمجھا گیا۔ اس واقعے کے بعد کچھ قاتل گرفتار بھی ہوئے۔ اس کے باوجود اسرائیلی انٹیلی جنس کی شہرت متاثر ہونے کے بجائے مزید بڑھ گئی۔ اس واقعے کو فلموں اور کتابوں میں شامل کیا گیا۔
ایویوا گٹمین کی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ موساد نے یہ کارروائیاں اکیلے نہیں کیں بلکہ یورپی خفیہ اداروں کی مدد سے انجام دیں۔ ایک خفیہ نیٹ ورک برن کلب میں یورپی ایجنسیاں، موساد اور ایف بی آئی شامل تھے، معلومات کے تبادلے کے ذریعے ان کارروائیوں میں مدد فراہم کرتا تھا۔ یہ نیٹ ورک دہشت گردی کے خلاف معلومات جمع کرتا تھا، لیکن عملی طور پر یہ قتل کی کارروائیوں میں بھی معاون ثابت ہوا۔
اس مہم میں اہداف صرف میونخ حملے سے وابستہ افراد تک محدود نہیں رہے بلکہ موساد کی فہرست میں شامل ہر مخالف کو نشانہ بنایا گیا۔ بعض افراد کو کمزور شواہد کی بنیاد پر قتل کیا گیا، جبکہ کچھ کو سیاسی وجوہات کی بنا پر ختم کیا گیا۔ ان میں وہ لوگ شامل تھے جو فلسطینیوں اور مغربی ممالک کے درمیان رابطے قائم کرنے کی کوشش کررہے تھے۔
برن کلب کی موجودگی کو 2004 تک عوامی سطح پر تسلیم نہیں کیا گیا۔ یورپی ممالک بظاہر اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید کرتے رہے لیکن خفیہ طور پر ان کے ساتھ تعاون جاری رکھا۔ حتیٰ کہ ناروے جیسے ملک نے، جہاں غلط شخص قتل ہوا، مجرموں کو مختصر سزا کے بعد رہا کردیا۔
وقت کے ساتھ اسرائیل کی یہ حکمت عملی ایک ماڈل بن گئی جسے دیگر ممالک، خاص طور پر امریکا نے بھی اپنایا۔ نائن الیون کے بعد امریکا نے ڈرون حملوں اور خصوصی فورسز کے ذریعے دشمن رہنماوں کو نشانہ بنایا۔ بعض ماہرین نے اس پالیسی کو نقصان دہ قرار دیا لیکن یہ سلسلہ جاری رہا۔
آج اسرائیل اس میدان میں سب سے آگے ہے، خاص طور پر غزہ میں جہاں مصنوعی ذہانت کی مدد سے بڑے پیمانے پر اہداف منتخب کیے گئے۔ ہزاروں افراد کو نشانہ بنایا جاچکا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ عالمی برادری نے اس طرز عمل کو خاموشی سے قبول کر لیا ہے۔ ایک سابق اسرائیلی فوجی وکیل کے مطابق، جب کوئی عمل طویل عرصے تک جاری رہے تو دنیا اسے جائز ماننے لگتی ہے، اور یہی اب ہو رہا ہے۔