میرا ناقابل ترجمہ نام

یہ ایک قدیم اور منفرد نام ہے جس کا نہ تو آسانی سے تلفظ کیا جاسکتا ہے اور نہ ترجمہ۔ میرے والدین کے لیے یہ نام ایک علامت تھا، فرق کی، شناخت کی اور مزاحمت کی۔

Share
میرا ناقابل ترجمہ نام

سوبولچ لاسلو [یورپین ریویو آف بکس]

جب میرے والدین میری پیدائش کے بعد میرا نام درج کروانے گئے تو انھوں نے ایک غیر معمولی منصوبہ بنایا۔ انہوں نے ایک چاکلیٹ بار حاصل کی جو 1980 کی دہائی کے رومانیہ میں ایک نایاب اور قیمتی چیز تھی، اور اس سرکاری اہلکار کو رشوت دی جو نوزائیدہ بچوں کے نام درج کرتا تھا۔ اس چاکلیٹ کے ساتھ ایک کاغذ بھی تھا جس پر نویں صدی کے ایک خانہ بدوش مجار سردار کا نام بڑے حروف میں لکھا ہوا تھا۔ ایسا نام جس کا تلفظ بیشتر یورپی زبانوں میں ممکن نہیں۔ میرے والدین کا مقصد یہ تھا کہ میرا نام نہ صرف درست درج ہو بلکہ ایسا ہو جس کا ترجمہ ممکن نہ ہو۔ میرے پیدائشی سرٹیفکیٹ سے لگتا ہے کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب رہے۔

آج کے یورپ میں، جہاں خیالات، اشیا اور لوگوں کی منتقلی اور ترجمہ قابلِ فخر سمجھا جاتا ہے، کسی نام کو ناقابل ترجمہ بنانے کی خواہش عجیب لگ سکتی ہے۔ لیکن میں 1987 کے رومانیہ میں ایک ہنگرین اقلیت کے فرد کے طور پر پیدا ہوا۔ اس وقت ملک میں کمیونسٹ آمریت قائم تھی، جس کی قیادت نکولائے چاؤشیسکو کر رہا تھا۔ وہ اقلیتوں کو زبردستی قومی دھارے میں ضم کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ اس عمل میں ناموں کی جبری تبدیلی بھی شامل تھی۔

اس دور میں اقلیتوں کے نام سرکاری طور پر بگاڑ دیے جاتے تھے۔ ہنگرین ناموں کو رومانیائی انداز میں لکھ دیا جاتا یا ان کا ترجمہ کردیا جاتا۔ مثال کے طور پر "لاسلو" کو "سیلاگی" بنادیا جاتا "یانوش" کو "ایوان" میں بدل دیا جاتا۔ یہ صرف ایک انتظامی عمل نہیں تھا بلکہ ایک پوری ثقافت اور شناخت کو مٹانے کی کوشش تھی۔

اگرچہ قانون یہ تھا کہ اقلیتوں کے اصل نام درج کیے جائیں لیکن حقیقت میں اس پر عمل نہیں ہوتا تھا۔ اس صورت حال میں اقلیتوں نے اپنے ناموں کو ناقابل ترجمہ بنانے کو مزاحمتی حکمت عملی بنالیا۔ میرے والدین نے بھی یہی کیا۔ انھوں نے رشوت دے کر اس قانون کو توڑا تاکہ دوسرے قانون یعنی اصل نام کے اندراج کو بچایا جاسکے۔

اس مقصد کے لیے ہنگرین کمیونٹی نے اپنے بچوں کے لیے ایسے قدیم نام منتخب کیے جو کسی دوسری زبان میں تبدیل نہ ہوسکیں۔ یہ روایت انیسویں صدی کے ہنگری قوم پرستوں سے لی گئی تھی جو اپنی شناخت کو مضبوط بنانے کے لیے قدیم مجار نام اپناتے تھے۔ کچھ نام تاریخی تھے اور کچھ ادیبوں نے تخلیق کیے تھے۔

میرا اپنا نام بھی اسی روایت کا حصہ ہے۔ یہ ایک قدیم اور منفرد نام ہے جس کا نہ تو آسانی سے تلفظ کیا جاسکتا ہے اور نہ ترجمہ۔ میرے والدین کے لیے یہ نام ایک علامت تھا، فرق کی، شناخت کی اور مزاحمت کی۔

یہ رجحان صرف رومانیہ تک محدود نہیں تھا۔ بلغاریہ میں بھی 1980 کی دہائی میں مسلمانوں کے نام زبردستی مسیحی ناموں میں بدلے گئے۔ اسی طرح برطانوی دور میں آئرلینڈ میں مقامی ناموں کو انگریزی شکل دی گئی۔ تاریخ میں کئی مثالیں ملتی ہیں جہاں طاقتور ریاستیں اقلیتوں کی شناخت مٹانے کے لیے ناموں کو بدلتی رہی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ مزاحمت بھی تاریخ میں دہرائی گئی۔ انیسویں صدی کے آخر میں جب ہنگری خود ایک طاقتور ریاست تھا تو اس نے رومانیہ کی اقلیت پر یہی پالیسیاں نافذ کیں۔ اس وقت رومانیہ کے لوگوں نے بھی ایسے نام اپنائے جو ہنگرین زبان میں تبدیل نہ ہوسکیں۔

آج میں ایک مختلف دنیا میں رہتا ہوں۔ میں امریکا اور یورپ میں گھوما ہوں اور ایک عالمی ماحول کا حصہ ہوں۔ میرے نام کا غلط تلفظ یا ہجے عام بات ہے۔ کبھی مجھے سوبولچ کی جگہ سابولز یا کچھ اور لکھ دیا جاتا ہے۔ دلچسپ بات ہے کہ وہی غلطیاں ہورہی ہیں جن سے بچنے کے لیے میرے والدین نے اتنی کوشش کی تھی۔

لیکن اب یہ بات مجھے اتنی پریشان نہیں کرتی۔ میں آسانی سے لوگوں کو درست تلفظ بتاسکتا ہوں اور اکثر وہ اسے سیکھنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ کبھی کبھی اس سے گفتگو کا ایک نیا دروازہ کھل جاتا ہے، جہاں میں انھیں اپنی کہانی سناتا ہوں۔ ایک چاکلیٹ بار کی رشوت اور ایک نام کی کہانی۔